مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجِمَاعِ وَالْقَوْلِ عِنْدَهُ وَالتَّسَتُّرِ . باب: صحبت کرنے ، صحبت کے وقت پڑھی جانے والی دعا اور صحبت کے وقت پردہ کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ ، فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يَسْتَتِرِ اسْتَحْيَتِ الْمَلَائِكَةُ فَخَرَجَتْ فَإِذَا كَانَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ كَانَ لِلشَّيْطَانِ فِيهِ نَصِيبٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعَّفَهُ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ أَبُو الْمُنِيبِ صَاحِبُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے پاس جائے ، تو اسے پردہ کر لینا چاہیے اگر وہ پردہ نہیں کرے گا ، تو فرشتے اس سے حیا کرتے ہوئے باہر چلے جائیں گے ، اور اگر ان دونوں کے ہاں اولاد ہو گی ، تو شیطان کا اس میں سے حصہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کی سند کو انہوں نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ابومنیب ہے ، جو یحیی بن ابوکثیر کا شاگرد ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔