مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجِمَاعِ وَالْقَوْلِ عِنْدَهُ وَالتَّسَتُّرِ . باب: صحبت کرنے ، صحبت کے وقت پڑھی جانے والی دعا اور صحبت کے وقت پردہ کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُعْطِيتُ قُوَّةَ أَرْبَعِينَ فِي الْبَطْشِ وَالنِّكَاحِ وَمَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا أُعْطِيَ قُوَّةَ عَشَرَةٍ وَجُعِلَتِ الشَّهْوَةُ عَلَى عَشَرَةِ أَجْزَاءٍ وَجُعِلَتْ تِسْعَةُ أَعْشَارٍ مِنْهَا فِي النِّسَاءِ وَوَاحِدَةٌ فِي الرِّجَالِ وَلَوْلَا مَا أُلْقِيَ عَلَيْهِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ مَعَ شَهَوَاتِهِنَّ لَكَانَ لِكُلِّ رَجُلٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ مُغْتَلِمَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ قَيْسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گرفت اور نکاح کے حوالے سے مجھے چالیس آدمیوں جتنی قوت عطا کی گئی ہے ، اور ہر مومن کو دس افراد جتنی قوت دی جاتی ہے ، اور شہوت کے دس اجزا کیے گئے ہیں ، جن میں سے نو اجزاء خواتین میں ہوتے ہیں اور ایک جزء مردوں میں ہے ، اگر خواتین پر حیاء نہ ڈالی گئی ہوتی ، جو ان کی خواہش کے ساتھ ہوتی ہے ، تو ہر آدمی کے ساتھ نو ، بیویاں ہونی تھیں ، جن میں نکاح ( یعنی ازدواجی تعلق قائم رکھنے کی ) شدید خواہش ہوتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن قیس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔