مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجِمَاعِ وَالْقَوْلِ عِنْدَهُ وَالتَّسَتُّرِ . باب: صحبت کرنے ، صحبت کے وقت پڑھی جانے والی دعا اور صحبت کے وقت پردہ کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " عُدْتَ الْيَوْمَ مَرِيضًا ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " فَتَصَدَّقْتَ بِصَدَقَةٍ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " فَصَلَّيْتَ عَلَى جِنَازَةٍ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " فَأَصَبْتَ مِنْ أَهْلِكَ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " فَأَصِبْ مِنْهُمْ ، فَإِنَّهَا مِنْكَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً " وَذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ النَّصْرُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ هِلَالٍ الْبَارِقِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے آپ نے دریافت کیا : کیا تم نے آج کسی بیمار کی عیادت کی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے کوئی چیز صدقہ کی ہے اس نے جواب دیا : جی نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے نماز جنازہ پڑھی ہے اس نے عرض کی : جی نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کی ہے اس نے عرض کی : جی نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے یہ کر لینا تھا یہ تمہاری طرف سے اس پر صدقہ ہونا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : یہ جمعہ کے دن کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن عاصم بن ہلال بارقی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔