مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ وَاللَّهْوِ وَالنِّثَارِ . باب: نکاح کا اعلان کرنا ، شادی کا گانا ( کھانے کی چیز ) نچھاور کرنا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَوَّلِ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ بِعَرُوسٍ وَمَعَهَا نِسْوَةٌ ، وَإِذَا إِحْدَاهُنَّ تَقُولُ : وَأَهْدَى لَهَا كَبْشًا تَبَحْبَحَ فِي الْمِرْبَدِ . ¤ وَزَوْجُكِ فِي الْبَادِي وَيَعْلَمُ مَا فِي غَدِ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُولِي هَكَذَا ، وَلَكِنْ قُولِي : أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو آغاز میں آپ کا گزر ایک شادی کے پاس سے ہوا جس میں خواتین موجود تھیں اور ان میں سے کوئی ایک یہ گا رہی تھی : ” اور اس شخص نے اس عورت کو ایک دنبہ تحفہ کے طور پر دیا ہے جو باڑے میں ٹھہر گیا ہے ، اور تمہارا شوہر آبادی سے باہر رہتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا“ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ نہ گاؤ ! تم یہ گاؤ : ” ہم تمہارے پاس آئے ہیں ہم تمہارے پاس آئے ہیں تم ہمیں خوش آمدید کہو اور ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔