مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يَنْبَغِي لِلْعَالِمِ وَالْجَاهِلِ . باب: عالم کے لئے اور جاہل کے لیے کیا مناسب ہے؟
حدیث نمبر: 751
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَنْبَغِي لِلْعَالِمِ أَنْ يَسْكُتَ عَلَى عِلْمِهِ ، وَلَا يَنْبَغِي لِلْجَاهِلِ أَنْ يَسْكُتَ عَلَى جَهْلِهِ . قَالَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - : ( فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ) " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عالم کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے علم کے حوالے سے خاموشی اختیار کرے ، اور جاہل کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی جہالت کے حوالے سے خاموشی اختیار کرے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم اہل علم سے دریافت کرو ! اگر تم علم نہیں رکھتے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔