وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : رَكِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْبَرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا إِكْثَارُكُمْ فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ ، وَإِنَّمَا الصَّدُقَاتُ فِيمَا بَيْنَهُمْ أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ فَمَا دُونَ ذَلِكَ . فَلَوْ كَانَ الْإِكْثَارُ فِي ذَلِكَ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ أَوْ مَكْرُمَةً لَمْ تَسْبِقُوهُمْ إِلَيْهَا فَلَا أَعْرِفَنَّ مَا زَادَ رَجُلٌ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ . قَالَ : ثُمَّ نَزَلَ فَاعْتَرَضَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ نَهَيْتَ النَّاسَ أَنْ يَزِيدُوا النِّسَاءَ فِي صَدُقَاتِهِمْ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَتْ : أَمَا سَمِعْتَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ ؟ فَقَالَ : فَأَنَّى ذَلِكَ ؟ قَالَتْ : أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : ( وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا ) فَقَالَ : اللَّهُمَّ غُفْرًا ، كُلُّ النَّاسِ أَفْقَهُ مِنْ عُمَرَ . ¤ قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ فَرَكِبَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تَزِيدُوا النِّسَاءَ فِي صَدُقَاتِهِنَّ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يُعْطِيَ مِنْ مَالِهِ مَا أَحَبَّ - قَالَ أَبُو يَعْلَى : قَالَ : وَأَظُنُّهُ قَالَ - فَمَنْ طَابَتْ نَفْسُهُ فَلْيَفْعَلْ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤مسروق بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چڑھے ، پھر انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! تم لوگوں نے عورتوں کے مہر کتنے زیادہ کر دیے ہیں ؟ حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا معاملہ بھی تھا ، اُن حضرات کے مہر چار سو درہم یا اس سے کم ہوا کرتے تھے ، اگر مہر کا زیادہ ہونا ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تقویٰ کی نشانی ہوتی ، یا عزت افزائی کی نشانی ہوتی ، تو تم ان حضرات سے سبقت نہ لے جاتے ، اس لئے اب میں کسی ایسے شخص کو نہ پاؤں ، جس نے چار سو سے زیادہ مہر دیا ہو ، راوی کہتے ہیں : پھر وہ منبر سے نیچے اتر گئے ، قریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ان کے سامنے آئیں اور بولیں : اے امیرالمؤمنین ! آپ نے لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا ہے ، کہ وہ چار سو درہم سے زیادہ مہر دیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! اس خاتون نے کہا: کیا آپ نے وہ بات نہیں سنی ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نازل کی ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون سی بات ؟ اس نے کہا: کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” اگر تم اُن میں سے کسی ایک کو ڈھیر دے دو ، تو اس میں سے کچھ بھی نہ لو ، کیا تم بہتان اور واضح گناہ کے طور پر اُسے لو گے “ ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! تجھ سے مغفرت کا سوال ہے ، ہر شخص عمر سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ واپس آئے دوبارہ منبر پر چڑھے اور بولے : میں نے تمہیں اس بات سے منع کیا تھا کہ عورتوں کو چار سو درہم سے زیادہ مہر نہیں دینا ہے ، اب تم میں سے جو شخص جتنا پسند کرے ، اتنا مہر دیدے ۔ ابویعلی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : آدمی کو جس سے تسلی ہو ، وہ ویسا ہی کر لے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔