وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ فَقُلْتُ : مَا لِي مِنْ شَيْءٍ ، فَكَيْفَ ؟! ، ثُمَّ ذَكَرْتُ صِلَتَهُ وَعَائِدَتَهُ فَخَطَبْتُهَا إِلَيْهِ فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ " قُلْتُ : لَا . قَالَ : " فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ؟ " قَالَ : هِيَ عِنْدِي ، قَالَ : فَأَعْطِهَا ، قَالَ : فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دینا چاہا ۔ تو میں نے سوچا کہ میرے پاس تو کوئی چیز نہیں ، پھر میں کیا کروں ؟ پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلہ رحمی اور آپ کی مہربانی یاد آئی ، تو میں نے آپ کو شادی کا پیغام دے دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے ؟ جو میں نے تمہیں فلاں موقع پر دی تھی ، انہوں نے عرض کی : وہ میرے پاس ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم وہ اسے دے دو ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، تو ( زرہ ) میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دے دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔