حدیث نمبر: 7486
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ . قَالَ : " فَهَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا ، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " عَلَى كَمْ ؟ " قَالَ : عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ ؟ كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبَانٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میں نے انصار سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے ساتھ شادی کر لی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے اسے دیکھا ہے ؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کتنے مہر کے عوض میں کی ہے ؟ اس نے جواب دیا : چار اوقیہ کے عوض میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چار اوقیہ کے عوض میں ؟ یہ تو یوں ہے ، جیسے تم اس پہاڑ سے چاندی چھیل کر اتارتے ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے أحمد بن ابان کے حوالے سے نقل کی ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7486
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1425)»