مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَتَمَ عِلْمًا . باب: جو شخص علم کی بات چھپا لے اُس کا بیان
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ الْمِدْحَاسِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلَا يَكْتُمْهُ ، وَمَنْ دَمَعَتْ عَيْنَاهُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَنْ يَلِجَ النَّارَ أَبَدًا إِلَّا تَحِلَّةَ الرَّحْمَنِ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ قَالَ قَالَ النَّسَائِيُّ : كَذَّابٌ ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ : صَدُوقٌ . وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا سعد بن مدحاس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : “” “” جو شخص کسی چیز کا علم رکھتا ہو تو وہ اسے نہ چھپائے اور جس شخص کے آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے آنسو جاری ہو جائیں ، اس شخص کے لئے یہ بات حلال نہیں ہو گی کہ وہ کبھی بھی جہنم میں داخل ہو ، البتہ رحمن کی بات پوری کرنے کا معاملہ مختلف ہے اور جو شخص میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں موجود گھر تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عبدالحمید ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ کذاب ہے ، ابن ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔