حدیث نمبر: 744
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّمَا عَبْدٍ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا فَكَتَمَهُ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَجَّمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ هَكَذَا ، وَقَالَ فِي الْكَبِيرِ : " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ " . وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ النَّضْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ . وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس بھی بندے کو اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا ہو اور وہ اُس کو چھپا لے ، تو جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اس کو آگ کی بنی ہوئی لگام ڈالی گئی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس طرح نقل کی ہے جبکہ معجم کبیر میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جس شخص سے علم کی کسی بات کے بارے میں سوال کیا جائے اور وہ اُسے چھپا لے ، تو قیامت کے دن اُسے آگ کی بنی ہوئی لگام ڈالی جائے گی ۔ “ معجم اوسط کی سند میں ایک راوی نضر بن سعید ہے ، جسے عقیلی نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ مجھے کبیر کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 744
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح لغیرہ بوجہ شواہد
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 10197 ، 10089 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 5540»