مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَزْنِي بِالْمَرْأَةِ ، [ ثُمَّ ] يَتَزَوَّجُهَا أَوْ يَتَزَوَّجُ ابْنَتَهَا أَوْ أُمَّهَا أَوْ يَتْبَعُ الْأُمَّ حَرَامًا . باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی عورت کے ساتھ زنا کر لیتا ہے اور پھر وہ اس عورت کے ساتھ شادی کر لیتا ہے ، یا اس عورت کی بیٹی ، یا اس کی ماں کے ساتھ شادی کر لیتا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنِ الرَّجُلِ يَزْنِي بِالْمَرْأَةِ ، ثُمَّ يَنْكِحُهَا ؟ قَالَ : هُمَا زَانِيَانِ مَا اجْتَمَعَا . فَقِيلَ لِابْنِ مَسْعُودٍ : أَرَأَيْتَ إِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا ؟ فَقَالَ : ، ( وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ ) . فَلَمْ يَزَلِ ابْنُ مَسْعُودٍ يُرَدِّدُهَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَابْنُ سِيرِينَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ رَوَاهُ بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِتَدْلِيسِهِ ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا : جو شخص کسی عورت کے ساتھ زنا کر لیتا ہے ، تو پھر وہ اس کے ساتھ شادی کر سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ دونوں جب تک اکٹھے رہیں گے ، وہ زنا کرنے والے شمار ہوں گے ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر وہ دونوں توبہ کر لیں اور نیک ہو جائیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہی وہ ( معبود ) ہے ، جو اپنے بندوں سے توبہ کو قبول کرتا ہے اور گناہوں سے درگزر کرتا ہے ، وہ یہ جانتا ہے کہ جو تم عمل کرتے ہو “ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسلسل اس آیت کو دہراتے رہے ، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا ، کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابن سیرین نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔ انہوں نے اسے متصل سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے ، جو اپنی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے ، اس نے
یہ روایت ” عنعنہ “ کے ساتھ نقل کی ہے ۔