❮
❯
حدیث نمبر: 7392
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَتَدْرِي مَا صَنَعْتَ وَبِمَا أَفْتَيْتَ ؟ سَارَتْ بِفُتْيَاكَ الرُّكْبَانُ وَقَالَتْ فِيهِ الشُّعَرَاءُ . قَالَ : وَمَا قَالُوا ؟ قُلْتُ : قَالُوا :
قَدْ قَالَ لِلشَّيْخِ لَمَّا طَالَ مَجْلِسُهُ يَا صَاحِ هَلْ لَكَ فِي فُتْيَا ابْنِ عَبَّاسِ .
هَلْ لَكَ فِي رَخْصَةِ الْأَطْرَافِ آنِسَةٍ
تَكُونُ مَثْوَاكَ حَتَّى مَصْدَرِ النَّاسِ .
فَقَالَ : إِنَّا لِلَّهِ ، وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ . وَاللَّهِ مَا بِهَذَا أَفْتَيْتُ ، وَلَا هَذَا أَرَدْتُ ، وَلَا أَحْلَلْتُ مِنْهَا إِلَّا مَا أَحَلَّ اللَّهُ مِنَ الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کیا کیا ہے ؟ اور آپ نے کیا فتویٰ دیا ہے ؟ سواروں نے آپ کا فتویٰ پھیلا دیا ہے ، اور اس کے بارے میں شاعروں نے شعر بھی کہے ہیں ، انہوں نے دریافت کیا : ان شاعروں نے کیا کہا: ہے ؟ میں نے جواب دیا : ان شاعروں نے یہ کہا: ہے : ” اس نے بزرگ سے کہا: جب اس کی ہم نشینی طویل ہو گئی کہ اے شخص ! کیا تمہیں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے فتوی میں دلچسپی ہے ؟ کیا تمہیں نرم و نازک اعضاء والی کسی دوشیزہ میں دلچسپی ہے ، جو لوگوں کے واپس لوٹنے تک تمہارا ٹھکانہ بنی رہے “ ۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : انا للہ وانا الیہ راجعون ، اللہ کی قسم ! میں نے یہ فتویٰ نہیں دیا ، اور نہ ہی میں نے یہ ارادہ کیا ہے ، اور میں نے اسے صرف اسی طرح حلال قرار دیا تھا ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے مردار ، خون اور خنزیر کے گوشت کو حلال قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7392
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10601)»