مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ . باب: نکاح متعہ کا بیان
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَتَدْرِي مَا صَنَعْتَ وَبِمَا أَفْتَيْتَ ؟ سَارَتْ بِفُتْيَاكَ الرُّكْبَانُ وَقَالَتْ فِيهِ الشُّعَرَاءُ . قَالَ : وَمَا قَالُوا ؟ قُلْتُ : قَالُوا : ¤ قَدْ قَالَ لِلشَّيْخِ لَمَّا طَالَ مَجْلِسُهُ يَا صَاحِ هَلْ لَكَ فِي فُتْيَا ابْنِ عَبَّاسِ . ¤ هَلْ لَكَ فِي رَخْصَةِ الْأَطْرَافِ آنِسَةٍ ¤ تَكُونُ مَثْوَاكَ حَتَّى مَصْدَرِ النَّاسِ . ¤ فَقَالَ : إِنَّا لِلَّهِ ، وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ . وَاللَّهِ مَا بِهَذَا أَفْتَيْتُ ، وَلَا هَذَا أَرَدْتُ ، وَلَا أَحْلَلْتُ مِنْهَا إِلَّا مَا أَحَلَّ اللَّهُ مِنَ الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کیا کیا ہے ؟ اور آپ نے کیا فتویٰ دیا ہے ؟ سواروں نے آپ کا فتویٰ پھیلا دیا ہے ، اور اس کے بارے میں شاعروں نے شعر بھی کہے ہیں ، انہوں نے دریافت کیا : ان شاعروں نے کیا کہا: ہے ؟ میں نے جواب دیا : ان شاعروں نے یہ کہا: ہے : ” اس نے بزرگ سے کہا: جب اس کی ہم نشینی طویل ہو گئی کہ اے شخص ! کیا تمہیں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے فتوی میں دلچسپی ہے ؟ کیا تم رخصت میں دلچسپی رکھتے ہو کہ وہ تمہارا ٹھکانہ ہو جائے ، جب تک لوگ واپس نہیں آتے “ ۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : انا للہ وانا الیہ راجعون ، اللہ کی قسم ! میں نے یہ فتویٰ نہیں دیا ، اور نہ ہی میں نے یہ ارادہ کیا ہے ، اور نہ ہی میں نے اس حوالے سے کسی ایسی چیز کو حلال قرار دیا ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار نہ دیا ہو ، اس کا تعلق مردار ، یا خون ، یا خنزیر کے گوشت سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔