حدیث نمبر: 7388
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِنِكَاحِ الْمُتْعَةِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : سُبْحَانَ اللَّهِ مَا أَظُنُّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَفْعَلُ هَذَا ! قَالُوا : بَلَى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِهِ . قَالَ : وَهَلْ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَّا غُلَامًا صَغِيرًا إِذْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : نَهَانَا عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا كُنَّا مُسَافِحِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْمُعَافَى بْنَ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نکاح متعہ کی اجازت دیتے ہیں ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : سبحان اللہ ! ابن عباس کے بارے میں میرا یہ گمان نہیں تھا کہ وہ ایسا کرتے ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! وہ ایسا کرتے ہیں تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو اس وقت ابن عباس کمسن لڑکے تھے ، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کر دیا تھا اور اب ہم زنا کرنے والے نہیں ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف معافی بن سلیمان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7388
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔