مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ سُؤَالِ الْعَالِمِ عَنْ مَا لَا يَعْلَمُ . باب: عالم کا ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنا جس کے بارے میں وہ نہ جانتا ہو
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : يَا أَبَا حَسَنٍ ، رُبَّمَا شَهِدْتَ وَغِبْنَا ، وَرُبَّمَا شَهِدْنَا وَغِبْتَ . ثَلَاثٌ أَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ هَلْ عِنْدَكَ مِنْهُنَّ عِلْمٌ ؟ قَالَ عَلِيٌّ : وَمَا هُنَّ ؟ قَالَ : الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ وَلَمْ يَرَ مِنْهُ خَيْرًا ، وَالرَّجُلُ يُبْغِضُ الرَّجُلَ وَلَمْ يَرَ مِنْهُ شَرًّا ؟ قَالَ : نَعَمْ ؛ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْأَرْوَاحَ فِي الْهَوَى أَجْنَادٌ مُجَنَّدَةٌ ، تَلْتَقِي فَتَشَامَّ ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " . قَالَ : وَاحِدَةٌ . ¤ وَقَالَ : الرَّجُلُ يُحَدِّثُ الْحَدِيثَ إِذْ نَسِيَهُ إِذْ ذَكَرَهُ ؟ قَالَ عَلِيٌّ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنَ الْقُلُوبِ قَلْبٌ إِلَّا وَلَهُ سَحَابَةٌ كَسَحَابَةِ الْقَمَرِ ، بَيْنَمَا الْقَمَرُ يُضِيءُ إِذْ عَلَتْهُ سَحَابَةٌ فَأَظْلَمَ ، إِذْ تَجَلَّتْ عَنْهُ فَأَضَاءَ ، وَبَيْنَا الرَّجُلُ يُحَدِّثُ الْحَدِيثَ إِذْ عَلَتْهُ سَحَابَةٌ فَنَسِيَ ، إِذْ تَجَلَّتْ عَنْهُ فَذَكَرَ " . قَالَ عُمَرُ : اثْنَتَانِ . ¤ قَالَ : وَالرَّجُلُ يَرَى الرُّؤْيَا فَمِنْهَا مَا يَصْدُقُ وَمِنْهَا مَا يَكْذِبُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ وَلَا أَمَةٍ يَنَامُ فَيَسْتَثْقِلُ نَوْمًا إِلَّا عُرِجَ بِرُوحِهِ إِلَى الْعَرْشِ ، فَالَّتِي لَا تَسْتَيْقِظُ إِلَّا عِنْدَ الْعَرْشِ فَتِلْكَ الرُّؤْيَا الَّتِي تَصْدُقُ ، وَالَّتِي تَسْتَيْقِظُ دُونَ الْعَرْشِ فَهِيَ الرُّؤْيَا الْتِي تَكْذِبُ " . فَقَالَ عُمَرُ : ثَلَاثٌ كُنْتُ فِي طَلَبِهِنَّ ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَصَبْتُهُنَّ قَبْلَ الْمَوْتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ الْعُقَيْلِيُّ : حَدِيثُهُ غَيْرُ مَحْفُوظٍ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ . وَهَذَا الْحَدِيثُ يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابوالحسن ! بعض اوقات آپ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) موجود ہوتے تھے اور ہم موجود نہیں ہوتے تھے ، اور بعض اوقات ہم موجود ہوتے تھے اور آپ موجود نہیں ہوتے تھے ، میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کروں گا کہ کیا آپ کے پاس ان کے بارے میں کوئی علم ہے ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ چیزیں کیا ہیں ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے : بعض اوقات ایک شخص کسی دوسرے شخص کے ساتھ محبت رکھتا ہے ، حالانکہ اُس نے اس دوسرے شخص سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی ہوتی ہے ، اسی طرح بعض اوقات کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے بغض رکھتا ہے ، حالانکہ اُس نے اس دوسرے شخص سے کوئی برائی نہیں دیکھی ہوتی ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ( یعنی میرے پاس اس حوالے سے علم ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہویٰ میں ( یعنی عالم ارواح میں ) روحیں گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں ، وہ ایک دوسرے سے ملتی تھیں ، تو اُن میں سے جو ایک دوسرے سے متعارف ہوئیں ، وہ ( دنیا میں بھی ) ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں ، اور جو وہاں لاتعلق رہیں ، وہ ( دنیا میں بھی ) ایک دوسرے سے نامانوس رہتی ہیں “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک بات ہو گئی ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : بعض اوقات کوئی شخص کوئی بات بیان کرتا ہے اور پھر وہ بات بھول جاتا ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دلوں میں سے ہر ایک دل کے لیے ایک بادل ہوتا ہے ، جیسے چاند کا بادل ہوتا ہے کہ چاند چمک رہا ہوتا ہے ، اُس پر بادل آ جاتا ہے تو وہ تاریک ہو جاتا ہے ، جب بادل ہٹ جاتا ہے ، تو وہ پھر چمکنے لگتا ہے ، اسی طرح کوئی شخص کوئی بات بیان کر رہا ہوتا ہے ، اسی دوران اس پر بادل آ جاتا ہے ، تو وہ بات بھول جاتا ہے اور جب وہ بادل ہٹ جاتا ہے ، تو اُسے وہ بات یاد آ جاتی ہے “ سیدنا عمر نے فرمایا : دو باتیں ہو گئی ہیں ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آدمی مختلف قسم کے خواب دیکھتا ہے ، اُن میں سے کچھ خواب سچے ثابت ہوتے ہیں ؟ اور کچھ خواب جھوٹے ثابت ہوتے ہیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بھی بندہ یا بندی سوتا ہے ، جب اس کی نیند گہری ہو جاتی ہے ، تو اُس کی روح کو عرش کی طرف لے جایا جاتا ہے ، اگر وہ شخص اُس کے پاس پہنچ کر بیدار ہوتا ہے تو وہ ایسا خواب ہوتا ہے جو سچا ثابت ہوتا ہے ، اور جو عرش سے پہلے بیدار ہو جاتا ہے ، تو وہ ایسے خواب ہوتے ہیں ، جو جھوٹے ثابت ہوتے ہیں ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تین باتیں تھیں ، جن کی مجھے تلاش تھی ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے کہ مرنے سے پہلے مجھے ان کا جواب مل گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ازہر بن عبداللہ ہے ، عقیلی فرماتے ہیں : ابن عجلان کے حوالے سے اس کی نقل کردہ حدیث محفوظ نہیں ہے ، اور یہ حدیث اسرائیل کے حوالے سے ، ابواسحاق کے حوالے سے ، حارث کے حوالے سے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر موقوف ہونے کے طور پر معروف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔