مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الرَّضَاعِ . باب: رضاعت کا بیان
عَنْ سَهْلَةَ بِنْتِ سُهَيْلٍ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلِيَّ ، وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرْضِعِيهِ " . فَقَالَتْ : كَيْفَ أُرْضِعُهُ ، وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ ؟ فَأَرْضَعَتْهُ فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْجَمِيعَ رَوَوْهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سَهْلَةَ فَلَا أَدْرِي سَمِعَ مِنْهَا أَمْ لَا . ¤سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابوحذیفہ کا غلام سالم ، میرے ہاں آ جاتا ہے ، اس کی داڑھی آ گئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے دودھ پلا دو ! اس خاتون نے عرض کی : میں اسے دودھ کیسے پلاؤں ؟ جبکہ وہ داڑھی والا ہے ، پھر اس خاتون نے اسے دودھ پلا دیا ، تو وہ صاحب اس خاتون کے ہاں آ جایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ تمام راویوں نے اسے قاسم بن محمد کے حوالے سے سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے اور مجھے نہیں معلوم ان صاحب نے اس خاتون سے سماع کیا ہے یا نہیں کیا ہے ؟ ۔