مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَمْرِ بِالتَّزْوِيجِ وَالْإِعَانَةِ عَلَيْهِ . باب: شادی کرنے کا حکم دینا اور اس بارے میں مدد کرنا
وَعَنْ رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ ؟ " . قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ وَمَا عِنْدِي مَا يُقِيمُ الْمَرْأَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ يَشْغَلَنِي عَنْكَ شَيْءٌ . فَأَعْرَضَ عَنِّي [ فَخَدَمْتُهُ مَا خَدَمْتُهُ ] ، ثُمَّ قَالَ لِي الثَّانِيَةَ : " يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ ؟ " . فَقُلْتُ : مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مَا عِنْدِي مَا يُقِيمُ الْمَرْأَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ يَشْغَلَنِي عَنْكَ شَيْءٌ . فَأَعْرَضَ عَنِّي ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْلَمُ مِنِّي بِمَا يُصْلِحُنِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهِ لَئِنْ قَالَ لِي أَتَزَوَّجُ لَأَقُولَنَّ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ . فَقَالَ لِي : " يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ ؟ " . فَقُلْتُ : بَلَى مُرْنِي بِمَا شِئْتَ . قَالَ : " انْطَلِقْ إِلَى آلِ فُلَانٍ - حَيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ فِيهِمْ تَرَاخٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - فَقُلْ لَهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكُمْ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُزَوِّجُونِي فُلَانَةً " - لِامْرَأَةٍ مِنْهُمْ - فَذَهَبْتُ إِلَيْهِمْ، فَقُلْتُ لَهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكُمْ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُزَوِّجُونِي فُلَانَةً . فَقَالُوا : مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاللَّهِ لَا يَرْجِعُ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِحَاجَتِهِ . فَزَوَّجُونِي وَأَلْطَفُونِي وَمَا سَأَلُونِي الْبَيِّنَةَ ، وَلَيْسَ عِنْدِي صَدَاقٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ اجْمَعُوا لَهُ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ " قَالَ : فَجَمَعُوا لِي وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَأَخَذْتُ مَا جَمَعُوا لِي فَأَتَيْتُ [ بِهِ ] النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اذْهَبْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ فَقُلْ لَهُمْ : هَذَا صَدَاقُهَا " . فَأَتَيْتُهُمْ فَقُلْتُ : هَذَا صَدَاقُهَا . فَقَبِلُوهُ وَرَضُوهُ وَقَالُوا : كَثِيرٌ طَيِّبٌ . قَالَ : ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَزِينًا فَقَالَ : " يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ حَزِينٌ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْتُ قَوْمًا أَكْرَمَ مِنْهُمْ وَرَضُوا بِمَا آتَيْتُهُمْ وَأَحَسَنُوا وَقَالُوا : كَثِيرٌ طَيِّبٌ وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أُولِمُ . فَقَالَ : " يَا بُرَيْدَةُ اجْمَعُوا لَهُ شَاةً " قَالَ : فَجَمَعُوا لِي كَبْشًا عَظِيمًا سَمِينًا ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلْ لَهَا فَلْتَبْعَثْ بِالْمِكْتَلِ الَّذِي فِيهِ الطَّعَامُ " قَالَ : فَأَتَيْتُهَا ، فَقُلْتُ لَهَا مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : هَذَا الْمِكْتَلُ فِيهِ سَبْعُ آصُعِ شَعِيرٍ لَا وَاللَّهِ إِنْ أَصْبَحَ لَنَا طَعَامٌ غَيْرُهُ خُذْهُ . قَالَ : فَأَخَذْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ : " اذْهَبْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ فَقُلْ لَهُمْ : لِيُصْبِحْ هَذَا عِنْدَكُمْ خُبْزًا [ فَذَهَبْتُ إِلَيْهِمْ ، وَذَهَبْتُ بِالْكَبْشِ ، وَمَعِي أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ ، فَقَالَ : لِيُصْبِحْ هَذَا عِنْدَكُمْ خُبْزًا ] ، وَهَذَا طَبِيخًا فَقَالُوا : أَمَّا الْخُبْزُ فَسَنَكْفِيكُمُوهُ وَأَمَّا الْكَبْشُ فَاكْفُونَا أَنْتُمْ . فَأَخَذْنَا الْكَبْشَ أَنَا ، وَأُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَذَبَحْنَاهُ وَسَلَخْنَاهُ وَطَبَخْنَاهُ فَأَصْبَحَ عِنْدَنَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَوْلَمْتُ وَدَعَوْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَانِي بَعْدَ ذَلِكَ أَرْضًا وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا وَجَاءَتِ الدُّنْيَا فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ فَقُلْتُ أَنَا : هِيَ فِي حَدِّي . وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : هِيَ فِي حَدِّي . وَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ كَلَامٌ فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهْتُهَا وَنَدِمَ فَقَالَ لِي : يَا رَبِيعَةُ رُدَّ عَلِيَّ مِثْلَهَا حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا . قُلْتُ : لَا أَفْعَلُ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَتَقُولَنَّ أَوْ لَأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : مَا أَنَا بِفَاعِلٍ . قَالَ : وَرَفَضَ الْأَرْضَ ، وَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَانْطَلَقْتُ أَتْلُوهُ فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالُوا [ لِي ] : رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فِي أَيِّ شَيْءٍ يَسْتَعْدِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ لَكَ مَا قَالَ ؟ فَقُلْتُ : أَتَدْرُونَ مَا هَذَا ؟ هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ هَذَا ثَانِي اثْنَيْنِ هَذَا ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ إِيَّاكُمْ لَا يَلْتَفِتُ فَيَرَاكُمْ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ فَيَغْضَبُ فَيَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَغْضَبُ لِغَضَبِهِ فَيَغْضَبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِغَضَبِهِمَا فَتَهْلِكُ رَبِيعَةُ . قَالَ : مَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : ارْجِعُوا . فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَبِعْتُهُ وَحْدِي حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ كَمَا كَانَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيَّ فَقَالَ لِي : " يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ ؟ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ كَذَا كَانَ كَذَا . قَالَ لِي كَلِمَةً كَرِهْتُهَا . قَالَ لِي : قُلْ كَمَا قُلْتُ حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا ، فَأَبَيْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَجَلْ لَا تَرُدَّ عَلَيْهِ ، وَلَكِنْ قُلْ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ [ فَقُلْتُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ] " . قَالَ الْحَسَنُ : فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ يَبْكِي . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : اے ربیعہ ! کیا تم شادی نہیں کرو گے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں شادی نہیں کرنا چاہتا ، کیونکہ میرے پاس اتنا کچھ موجود نہیں ہے کہ جس کے ساتھ عورت کی دیکھ بھال کی جا سکے اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ کوئی بھی چیز مجھے آپ سے الگ کروا دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، پھر کچھ عرصہ میں آپ کی خدمت کرتا رہا ، پھر آپ نے مجھ سے دوسری مرتبہ دریافت کیا : اے ربیعہ ! تم شادی نہیں کرو گے ؟ میں نے عرض کی : میں شادی نہیں کرنا چاہتا ، میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے ، جس کے ذریعے عورت کی دیکھ بھال کر سکوں ، اور مجھے یہ بات بھی پسند نہیں ہے کہ کوئی چیز مجھے آپ سے مشغول کر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا پھر میں نے دل میں سوچا ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ کیا چیز میری دنیا اور میری آخرت میں میرے حق میں بہتر ہے ؟ اللہ کی قسم ! اب اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا : کیا تم شادی نہیں کرو گے ؟ تو میں کہہ دوں گا : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ جو چاہیں حکم دیں ، پھر آپ نے دریافت کیا : اے ربیعہ ! کیا تم شادی نہیں کرو گے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم آل فلاں کی طرف جاؤ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک قبیلے کا نام لیا ، جن کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ تعلق تھا ، اور ان سے یہ کہو : کہ اللہ کے رسول نے تمہاری طرف بھیجا ہے اور وہ تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ فلاں عورت کے ساتھ میری شادی کروا دو ! ان کے قبیلے کی ایک عورت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ، میں ان کے پاس گیا اور میں نے ان سے کہا: اللہ کے رسول نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے اور وہ تمہیں یہ حکم دے رہے کہ فلاں عورت کے ساتھ میری شادی کروا دو ! انہوں نے کہا: اللہ کے رسول کو اور اللہ کے رسول کی طرف سے آنے والے فرد کو خوش آمدید ہے ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول کی طرف سے آنے والا فرد ، اپنی حاجت پوری کر کے ہی واپس جائے گا ، پھر ان لوگوں نے میری شادی ( طے ) کروا دی اور میرے ساتھ مہربانی کا سلوک کیا ، انہوں نے مجھ سے کوئی ثبوت نہیں مانگا میرے پاس مہر دینے کے لئے کوئی چیز نہیں تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بریدہ اسلمی ! اس کے لئے ایک گٹھلی کے وزن جتنا سونا اکٹھا کرو ، ان لوگوں نے میرے لئے گٹھلی کے وزن جتنا سونا اکٹھا کر لیا ، میں نے وہ لیا ، جو انہوں نے میرے لئے جمع کیا تھا اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو کہ یہ اس عورت کا مہر ہے ، میں ان لوگوں کے پاس آیا ، میں نے کہا: یہ اس عورت کا مہر ہے ، تو انہوں نے اس کو قبول کر لیا ، اور اس سے راضی ہو گئے ، اور یہ کہا: یہ زیادہ ہے اور پاکیزہ ہے ، پھر میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غمگین ہو کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ربیعہ ! تم کیوں غمگین ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ان لوگوں سے زیادہ معزز لوگ نہیں دیکھے ، میں نے جو انہیں دیا ، وہ اس سے راضی ہو گئے اور انہوں نے اچھا سلوک کیا اور انہوں نے یہ کہا: یہ زیادہ بھی ہے اور پاکیزہ بھی ہے ، لیکن اب میرے پاس ولیمہ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بریدہ ! اس کے لئے بکری کا بندوبست کرو ! ان لوگوں نے میرے لئے ایک بڑا موٹا تازہ دنبا لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم عائشہ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو : کہ پیمانے میں جو اناج موجود ہے ، وہ بھجوا دے ، راوی کہتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا ، میں نے انہیں وہ بات بتائی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : یہ پیمانہ ہے اس میں جو کے سات صاع موجود ہیں ، اللہ کی قسم ! ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی اناج نہیں ہے ، تم یہ لے لو ! میں نے وہ لے لیے ، میں وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو فرمایا تھا ، اس کے بارے میں آپ کو بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو : تم لوگوں نے روٹی تیار کرنی ہے ، میں وہ لے کر ان لوگوں کے پاس گیا اور دنبہ بھی ساتھ لے گیا ، میرے ساتھ اسلم قبیلے کے کچھ افراد تھے ، انہوں نے کہا: کہ تم لوگوں نے کھانا تیار کرنا ہے اور یہ دنبہ پکانا ہے ، تو ان لوگوں نے کہا: روٹی تو ہم تیار کر لیں گے ، لیکن دنبہ ہماری جگہ تم تیار کر لو ، تو میں نے اور اسلم قبیلے کے لوگوں نے دنبہ لیا اور اسے ذبح کیا ، اور اس کی کھال اتاری اُسے پکایا تو ہمارے پاس روٹی اور گوشت تیار ہو گیا ، میں نے ولیمہ کی دعوت کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بلایا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ زمین عطا کی ، آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی زمین عطا کی ، دنیا آ گئی ، تو ہمارے درمیان کھجور کے ایک درخت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، میں نے کہا: یہ میری حدود میں آتا ہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میری حدود میں آتا ہے ، میرے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان تیز کلامی ہو گئی ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک ایسا کلمہ کہا: ، جو مجھے ناگوار گزرا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ندامت ہوئی ، انہوں نے مجھ سے کہا: اے ربیعہ ! تم اس طرح کی بات میرے خلاف بھی کہہ لو ! تاکہ بدلہ ہو جائے ، میں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا تو تم یہ کہو گے ، یا پھر میں تمہارے خلاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کروں گا ، میں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ زمین چھوڑ دی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل پڑے ، میں ان کے پیچھے چل پڑا ، اسلم قبیلے کے کچھ لوگ آئے ، اور انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ تعالیٰ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ! وہ کس بات کی شکایت اللہ کے رسول سے کرنا چاہ رہے ہیں ؟ حالانکہ انہوں نے ہی تمہیں نامناسب بات کہی ہے میں نے کہا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ کون ہیں ؟ یہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ، جو دو افراد میں سے ایک ہیں ، اور مسلمانوں کے بزرگ ہیں ، تم اس چیز سے بچ کے رہو ! کہ کہیں وہ مڑ کر یہ نہ دیکھ لیں کہ تم ان کے خلاف میری مدد کر رہے ہو ، اور پھر وہ غصے میں آ جائیں گے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جائیں گے ، تو ان کے غصے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی غضبناک ہوں گے ، اور ان دونوں کے غصے کی وجہ سے ، اللہ تعالیٰ بھی غضبناک ہو گا ، اور ربیعہ ہلاک ہو جائے گا ، اس شخص نے کہا: پھر تم ہمیں کیا ہدایت کرتے ہو ؟ سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ واپس چلے جاؤ ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ، ان کے پیچھے میں بھی اکیلا آیا ، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، تو آپ کو پوری بات سنائی ، جس طرح ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور مجھ سے دریافت کیا : اے ربیعہ ! تمہارا اور صدیق کا کیا معاملہ ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ، اس طرح کی صورت حال ہوئی تھی ، انہوں نے ایک بات کہی ، جو مجھے ناگوار گزری ، انہوں نے مجھ سے یہ کہا: کہ تم بھی اس طرح کہہ لو ، جس طرح میں نے کہا: ہے ، تاکہ بدلہ ہو جائے ، تو میں نے یہ بات نہیں مانی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے ! تم نے اسے جواب نہیں دینا تھا ، تم یہ کہو : کہ اے ابوبکر ! اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے ، تو میں نے یہ کہہ دیا : اے ابوبکر ! اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے ۔ حسن نامی راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے واپس چلے گئے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔