مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا فِي عَبْدٍ . باب: جو شخص کسی غلام میں ایک حصے کو آزاد کر دے
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عَبْدًا كَانَ بَيْنَ عَشَرَةٍ فَأَعْتَقُوهُ إِلَّا وَاحِدًا مِنْهُمْ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَشْفِعُ بِهِ عَلَى الرَّجُلِ ، وَكَلَّمَهُ فِيهِ فَوَهَبَ الرَّجُلُ نَصِيبَهُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْتَقَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ يَقُولُ : أَنَا مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَكَانَ اسْمُهُ رَافِعًا أَبَا الْبَهِيِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَمُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد بن عمر بن سعید بیان کرتے ہیں : ایک غلام دس آدمیوں کی ملکیت تھا ، انہوں نے اسے آزاد کر دیا ، ان میں سے ایک نے اس کو آزاد نہیں کیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تاکہ اس شخص کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کروائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کے بارے میں اس شخص سے بات کی ، تو اس شخص نے اپنے حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو آزاد کر دیا ، تو وہ غلام یہ کہا: کرتا تھا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آزاد کردہ غلام ہوں ، اس کا نام ” رافع ابوبہی “ تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، محمد بن عمر نامی اس راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔