مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا فِي عَبْدٍ . باب: جو شخص کسی غلام میں ایک حصے کو آزاد کر دے
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : كَانَ غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ : طَهْمَانُ أَوْ ذَكْوَانُ فَأَعْتَقَ جَدُّهُ نَصِيبَهُ ، فَجَاءَ الْعَبْدُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعْتِقُ فِي عُنُقِكَ وَتَرِقُّ فِي عُنُقِكَ " . قَالَ : وَكَانَ يَخْدِمُ سَيِّدَهُ حَتَّى مَاتَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فَقَالَ : عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ . رَوَاهُ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِيهِ بِإِسْنَادِهِ - فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ سَقَطَ مِنْ نُسْخَتِي - عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤اسماعیل بن امیہ ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک غلام تھا جس کا نام طہمان ، یا شاید ذکوان تھا ، ان کے دادا نے اس میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ، وہ غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی گردن میں آزاد ہو ، تم اپنی گردن میں غلام ہو ( یعنی کچھ آزاد ہو ، اور کچھ غلام ہو ) راوی کہتے ہیں : تو وہ غلام مرتے دم تک اپنے آقا کی خدمت کرتا رہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور
یہ روایت ” مرسل “ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اسماعیل بن امیہ کے حوالے سے ، ان کے والد کے حوالے سے ، ان کے دادا سے منقول ہے ۔ انہوں نے
یہ روایت عبداللہ بن أحمد کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، ان کی سند کے ساتھ نقل کی ہے ، تو اس بات کا احتمال موجود ہے کہ میرے نسخے میں یہ لفظ نہ آیا ہو ، کہ انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا سے نقل کی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔