مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً . باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی مومن گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرتا ہے
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ ؟ قَالَ : " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ . ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ . ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ . ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ . ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ( ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ ) قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ . ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ " . ¤ قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " أَيَّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا فَهُوَ فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ ؛ يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْهُ عَظْمًا مِنْهُ ، ( وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً ، فَهِيَ فَكَاكُهَا مِنَ النَّارِ ، يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْهَا عَظْمًا مِنْهَا ) وَأَيَّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَقَبَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ فَهُمَا فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْ عِظَامِهِمَا عَظْمًا مِنْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : رات کا کون سا حصہ ( دعا کی قبولیت ) کے حوالے سے زیادہ سنا جانے والا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رات کا آخری نصف حصہ ، پھر اس کے بعد نماز قبول ہوتی ہے ، یہاں تک کہ صبح صادق ہو جاتی ہے ، پھر کوئی ( نفل ) نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج ایک نیزے یا دو نیزے جتنا بلند نہیں ہو جاتا پھر نماز مقبول ہوتی ہے ، یہاں تک کہ سایہ نیزے جتنا ہو جائے ، پھر کوئی ( نفل ) نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج ڈھل نہیں جاتا ، پھر نماز مقبول ہوتی ہے ، یہاں تک کہ سورج ( غروب ہونے کی طرف ) ایک ، یا دو نیزے جتنا رہ جائے ، پھر کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی مسلمان شخص ، کسی مسلمان شخص کو آزاد کرتا ہے ، تو وہ ( آزاد ہونے والا ) اُس ( آزاد کرنے والے ) کے جہنم سے بچاؤ کا باعث بن جاتا ہے ، اُس کی ہر ایک ہڈی اس کی ہر ہڈی کی جگہ کفایت کر جاتی ہے ، اور جو مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرتی ہے ، تو وہ اُس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا باعث بن جاتی ہے ، اس کی ہر ایک ہڈی اس کی ہر ہڈی کی جگہ کفایت کر جاتی ہے اور جو مسلمان شخص ، دو مسلمان افراد کو آزاد کرتا ہے ، تو وہ دونوں اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتے ہیں ، ان دونوں کی ہر ایک ہڈی اُس کی ہڈی کی جگہ کفایت کر جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابوسلمہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔