مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کے بارے میں روایات
بَابُ الْعِتْقِ وَالْإِعَانَةِ فِيهِ . باب: غلام آزاد کرنا اور اس بارے میں مدد کرنا
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ الصَّدَقَةَ فَقَالَ : " مِنَ الصَّدَقَةِ عِتْقُ الرَّقَبَةِ وَفَكُّهَا " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَلَيْسَتَا وَاحِدَةً ؟ قَالَ : " لَا . عِتْقُهَا أَنْ تُعْتِقَهَا . وَفَكُّهَا أَنْ تُعِينَ فِيهَا " . قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : " فَمِنْحَةٌ وَكُوفٍ أَوْ عَطْفٌ عَلَى ذِي الرَّحِمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُوسَى ؛ قَالَ الْأَزْدِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صدقہ کا ذکر کرتے ہوئے سنا : آپ نے ارشاد فرمایا : صدقہ کرنے میں یہ بات شامل ہے کہ گردن کو آزاد کیا جائے اور اُسے چھڑوایا جائے ، ایک شخص نے عرض کی : کیا یہ دونوں ایک ہی نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! اسے آزاد کرنے سے مراد یہ ہے کہ تم اسے آزاد کر دو ، اور اسے چھڑوانے سے مراد یہ ہے کہ تم اس کے آزاد کرنے میں مدد کرو ، اس نے عرض کی : اگر میں یہ نہ کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر ایسا عطیہ جو برسنے والا ہو ( یا ٹپکنے والا ہو ، یعنی دودھ دینا ) اور رشتہ دار پر مہربانی کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن موسیٰ ہے ، ازدی کہتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ۔