حدیث نمبر: 7242
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي عَمْلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ . قَالَ : لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ : اعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفُكَّ الرَّقَبَةَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَتَا بِوَاحِدَةٍ ؟ قَالَ : " لَا إِنَّ عِتْقَ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا . وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي عِتْقِهَا . وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ . فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کی تعلیم دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے الفاظ مختصر استعمال کیے ہیں اور بڑا مسئلہ دریافت کیا ہے ، تم جان کو آزاد کرواؤ ، اور گردن کو چھڑواؤ ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ دونوں چیزیں ایک ہی نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! جان کو آزاد کرنے سے مراد یہ ہے کہ جب تم اسے آزاد کرنے میں منفرد ہو ، اور گردن کو چھٹروانے سے مراد یہ ہے ، کہ تم اس کو آزاد کروانے میں اس کی مدد کرو ، اور ایسا عطیہ جو برسنے والا ہو ( یا ٹپکنے والا ہو ، یعنی دودھ دینا ) اور ظلم کرنے والے رشتے کو کچھ دینا ، اگر تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ، تو بھوکے کو کھانا کھلاؤ ، پیاسے کو پلاؤ ، نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو ، اور اگر تم اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے ، تو تم اپنی زبان کو بھلائی کے علاوہ ہر چیز سے روک کے رکھو ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7242
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح