حدیث نمبر: 7221
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْدِمْنَا قَالَ : " خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ " قَالَ : خِرْ لِي . قَالَ : " خُذْ هَذَا ، وَلَا تَضْرِبْهُ ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مَقْفَلَنَا مِنْ خَيْبَرَ ، وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ " . ¤ وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ غُلَامًا، وَقَالَ : " اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا " . فَأَعْتَقَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا فَعَلَ الْغُلَامُ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَرْتَنِي أَنِ اسْتَوْصِيَ بِهِ مَعْرُوفًا فَأَعْتَقْتُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے ، آپ کے ساتھ دو غلام تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں ایک خدمت گار دے دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان دونوں میں سے جسے چاہو حاصل کر لو ، انہوں نے عرض کی : آپ میرے لئے کوئی منتخب کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ لے لو ! تم نے اسے مارنا نہیں ہے ، کیونکہ میں نے اسے خیبر سے واپسی پر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے اور مجھے نمازیوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور فرمایا : اس کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اُسے آزاد کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا : غلام کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اس کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کروں ، تو میں نے اسے آزاد کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7221
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ الألباني: وهذا إسناد حسن [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1324]
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (258/5)»