حدیث نمبر: 72
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَحْمَرَ الْمَازِنِيِّ قَالَ : كُنْتُ فِي إِبِلِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَرْعَاهَا ، فَأَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَجَمَعْتُ إِبِلِي وَرَكِبْتُ الْفَحْلَ فَتَفَاجَّ يَبُولُ ، فَنَزَلْتُ عَنْهُ ، وَرَكِبْتُ نَاقَةً ، فَنَجَوْتُ عَلَيْهَا ، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمْتُ فَرَدَّهَا عَلَيَّ ، وَلَمْ يَكُونُوا اقْتَسَمُوهَا . قَالَ جَوَّابُ بْنُ عُمَارَةَ : فَأَدْرَكْتُ أَنَا وَأَخِي النَّاقَةَ الَّتِي رَكِبَهَا عُمَارَةُ يَوْمَئِذٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ قُتَيْلَةُ بِنْتُ جُمَيْعٍ عَنْ يَزِيدِ بْنِ صَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ . وَلَمْ أَرَ أَحَدًا تَرْجَمَهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمارہ بن احمر مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ، میں اپنے اونٹ چرا رہا تھا ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہہ سواروں نے ہم پر حملہ کر دیا ، میں نے اپنے اونٹ جمع کئے اور ایک اونٹ پر سوار ہوا ، تو وہ پیشاب کرنے کے لئے رک گیا ، میں اس سے نیچے اترا ، اور اونٹنی پر سوار ہو گیا ، جس کی وجہ سے میں بچ گیا ، وہ لوگ میرے اونٹ ہانک کر لے گئے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے اسلام قبول کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اونٹ مجھے واپس کر دیئے ، جو ان لوگوں نے ابھی تقسیم نہیں کیے تھے ۔ سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے جواب بن عمارہ بیان کرتے ہیں : میں نے اور میرے بھائی نے وہ اونٹنی دیکھی ہے ، جس پر سوار ہو کر سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں قتیلہ بنت جمیع ہے ، جس نے یزید بن صیف کے حوالے سے ان کے والد سے یہ روایت نقل کی ہے ، میں نے ان میں سے کسی کے حالات ( کسی کتاب میں ) نہیں دیکھے ہیں ۔(یعنی یہ مجہول راوی ہیں)

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 72
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف