مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِسْلَامِ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ . باب: اسلام اپنے سے پہلے کے امور پر غالب آجاتا ہے
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ الرِّيَاحِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَلَمْ أَجِدْهُ ، وَرَأَيْتُ الْمَرْأَةَ ، فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ : هُوَ ذَاكَ فِي ضَيْعَةٍ لَهُ ، فَجَاءَ يَقُودُ - أَوْ يَسُوقُ - بَعِيرَيْنِ ، قَاطِرًا أَحَدَهُمَا فِي عَجُزِ صَاحِبِهِ ، فِي عُنُقِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قِرْبَةٌ ، فَوَضَعَ الْقِرْبَتَيْنِ . قُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا كَانَ فِي النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ ، وَلَا أَبْغَضَ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ ، قَالَ : لِلَّهِ أَبُوكَ ، وَمَا يَجْمَعُ هَذَا ؟ قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي كُنْتُ وَأَدْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكُنْتُ أَرْجُو فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّ لِي تَوْبَةً وَمَخْرَجًا ، وَكُنْتُ أَخْشَى فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّهُ لَا تَوْبَةَ لِي ، فَقَالَ : أَفِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي عِشْرَةِ النِّسَاءِ . ¤ رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤نعیم بن قعنب ریاحی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے آیا ، تو وہ مجھے نہیں ملے ، میں نے ایک خاتون کو دیکھا ، تو اس سے دریافت کیا : تو اس خاتون نے بتایا : وہ اپنی زمین پر گئے ہوئے ہیں ، اسی دوران سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ دو اونٹوں کو ہانک کر لاتے ہوئے تشریف لے آئے ، اونٹ آگے پیچھے تھے اور اُن میں سے ہر ایک کی گردن میں ایک مشکیزہ تھا ، انہوں نے دونوں مشکیزے رکھ دیئے ، تو میں نے کہا: اے سیدنا ابوذر غفاری ! مجھے دنیا میں سب سے زیادہ آپ سے ملاقات پسند ہے ، اور آپ سے ملاقات سب سے زیادہ ناپسند بھی ہے ، انہوں نے فرمایا : کیا کہہ رہے ہو بھئی ؟ یہ دونوں صورتیں کیسے جمع ہو سکتی ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بچی کو زندہ دفن کر دیا تھا ، تو میری یہ خواہش تھی کہ میں آپ سے ملوں اور آپ مجھے بتائیں کہ کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ اور مجھے آپ سے ملتے ہوئے یہ اندیشہ بھی تھا ، کہ کہیں آپ مجھے یہ نہ کہہ دیں کہ میرے لیے توبہ کی گنجائش نہیں ہے ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا زمانہ جاہلیت میں ایسا ہوا تھا ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : تم نے پہلے جو کچھ کیا ، اللہ تعالیٰ اُس کے حوالے سے درگزر کرے ۔
( علامہ ہیشمی بیان کرتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ مکمل روایت آگے چل کر ، خواتین کے ساتھ طرز سلوک سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔