مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَلَاءِ وَمَنْ يَرِثُهُ . باب: ولاء کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ الثَّقَفِيِّ أَنَّ نَافِعًا أَبَا السَّائِبِ كَانَ عَبْدًا لِغَيْلَانَ فَفَرَّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حَاصَرَ الطَّائِفَ ، فَأَسْلَمَ فَأَعْتَقَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَسْلَمَ غَيْلَانُ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَاءَ نَافِعٍ إِلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ رَوَى غَيْلَانُ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : وَفِيهِ عُرْوَةُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نافع ابوسائب ، جو غیلان کے غلام تھے ، وہ فرار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئے ، یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد قرار دے دیا ، جب سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نافع کی ولاء اُن کی طرف واپس کر دی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ یہ فرماتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ سے صرف یہی حدیث منقول ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کی سند میں ایک راوی عروہ بن غیلان ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔