مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِأُمٍّ . باب: ( میت کے ) دو چچازاد ، افراد کا بیان کہ جن میں دونوں میں سے کوئی ایک ماں کی طرف سے شریک بھائی ہو
حدیث نمبر: 7165
عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ أُتِيَ فِي فَرِيضَةِ ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِأُمٍّ، فَقَالُوا : أَعْطَاهُ ابْنُ مَسْعُودٍ الْمَالَ كُلَّهُ ، فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ مَسْعُودٍ إِنْ كَانَ لَفَقِيهًا لَكِنِّي أُعْطِيهِ سَهْمَ الْأَخِ لِلْأُمِّ ( مِنْ قَبْلُ ) ، ثُمَّ أَقْسِمُ الْمَالَ بَيْنَهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان کے سامنے وراثت کا ایک مسئلہ آیا کہ جس میں دو چچازاد بھائی تھے ، جن میں سے ایک ماں کی طرف سے شریک بھائی بھی تھا ، لوگوں نے بتایا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے پورا مال دے دیا ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعلی عبداللہ بن مسعود پر رحم کرے ، وہ فقیہ تھے ، لیکن میں ماں کی طرف سے شریک بھائی کو اس کا حصہ پہلے دوں گا ، اور پھر مال ان دونوں کے درمیان تقسیم کروں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔