مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْكَلَالَةِ . باب: کلالہ کا بیان
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ رَجُلٌ يَسْتَفْتِيهِ فِي الْكَلَالَةِ : أَنْبِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلَالَةُ الرَّجُلِ يُرِيدُ إِخْوَةً مِنْ أُمِّهِ ، وَأَبِيهِ ؟ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَيْهِ آيَةَ الْكَلَالَةِ الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ ، ثُمَّ عَادَ الرَّجُلُ يَسْأَلُهُ فَكُلَّمَا سَأَلَهُ قَرَأَهَا حَتَّى أَكْثَرَ وَصَخِبَ الرَّجُلُ ، فَاشْتَدَّ صَخَبُهُ مِنْ حِرْصٍ عَلَى أَنْ يُبَيِّنَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْآيَةَ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَزِيدُكَ عَلَى مَا أُعْطِيتُ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَزِيدُكَ عَلَى مَا أُعْطِيتُ حَتَّى أَزْدَادَ عَلَيْهِ " . فَجَلَسَ الرَّجُلُ حِينَئِذٍ وَسَكَتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ . ¤سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے ” کلالہ “ کے بارے میں دریافت کیا : اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے کہ آدمی کے ” کلالہ “ سے مراد یہ ہے کہ اس کے ماں اور باپ کی طرف سے بھائی ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا آپ نے صرف ” کلالہ “ سے متعلق آیت اس کے سامنے پڑھ دی ، جو سورت نساء میں موجود ہے ، اس شخص نے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، ہر مرتبہ وہ آپ سے سوال کرتا ، تو آپ اس کے سامنے آیت پڑھ دیتے یہاں تک کہ اس شخص نے بکثرت آپ سے سوال کیا اور اس شخص نے زیادہ اہتمام کیا ، یہاں تک کہ اس کا اہتمام زیادہ ہو گیا ، اس کی شدید خواہش تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سامنے بیان کر دیں ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے صرف آیت پڑھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” اللہ کی قسم ! میں تمہیں اس سے زیادہ نہیں بتاؤں گا ، جو مجھے عطا کیا گیا ہے ، اللہ کی قسم ! میں تمہیں اس سے زیادہ نہیں بتاؤں گا ، جو مجھے عطا کیا گیا ہے ، جب تک مجھے اس بارے میں زیادہ علم نہیں ہوتا “ ۔ اس وقت وہ شخص بیٹھ گیا اور خاموش ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔