مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ : مَتَى يَرِثُ الْمَوْلُودُ ؟ . باب: نومولود بچہ کب وارث بنتا ہے ؟
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَجَابِرٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَرِثُ الصَّبِيُّ حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا وَاسْتِهْلَالُهُ أَنْ يَصِيحَ أَوْ يَعْطِسَ أَوْ يَبْكِيَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ وَثَّقَهُ أَبُو مُسْهِرٍ، وَمَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : لَا أُحَدِّثُ عَنْهُ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پیدا ہونے کے فوراً بعد مر جانے والا ) بچہ اس وقت تک وارث نہیں بنتا ، جب تک وہ ( پیدائش کے وقت ) چیختا نہیں ہے اور چیخنے سے مراد یہ ہے کہ وہ چیخ مار دے ، یا چھینک مار دے ، یا روئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباس بن ولید خلال ہے ، جسے مسہر اور مروان بن محمد نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام ابوداؤد کہتے ہیں : میں اس کے حوالے سے روایت نقل نہیں کرتا ہوں ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔