مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي كَثْرَةِ السُّؤَالِ . باب: بکثرت ( غیر متعلقہ یا غیر ضروری ) سوال کرنا
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الْعُقُوقِ . ¤سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لیے تین چیزوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے ، قیل و قال ( یعنی غیر ضروری بحث ) بکثرت ( غیر ضروری ) سوال کرنا اور مال کو ضائع کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران القطان ہے ، جسے یحیی بن معین امام ابوداؤد اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی احادیث نافرمانی سے متعلق باب میں آئیں گی ۔