مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عِلْمِ الْفَرَائِضِ . باب: علم وراثت کا بیان
وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ أَنَّهُ أَخَذَ هَذِهِ الرِّسَالَةَ مِنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لِعَبْدِ اللَّهِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَمَّا بَعْدُ : فَإِنَّكَ كُنْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ مِيرَاثِ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ وَالْكَلَالَةِ وَكَثِيرٍ مِمَّا يُقْضَى بِهِ فِي هَذِهِ الْأُمُورِ لَا يُعْلَمُ مَبْلَغُهَا ، وَقَدْ كُنَّا نَحْضُرُ مِنْ ذَلِكَ أُمُورًا عِنْدَ الْخُلَفَاءِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَعَيْنَا مِنْهَا مَا شِئْنَا أَنْ نَعِيَ فَنَحْنُ نُفْتِي ( بِهِ ) بَعْدُ مَنِ اسْتَفْتَانَا فِي الْمَوَارِيثِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وِجَادَةً ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤ابوزناد بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے خارجہ سے یہ مکتوب حاصل کیا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ، یہ زید بن ثابت کی طرف سے اللہ کے بندے اور امیرالمؤمنین ! سیدنا معاویہ کے نام ہے ، اے امیر المؤمنین ! آپ کو سلام ہو اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں ، میں آپ کے سامنے اُس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اما بعد ! آپ نے مجھ سے دادا ، بھائیوں اور کلالہ کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا ہے اور دیگر بہت سے امور کے بارے میں دریافت کیا ہے ، جن کے بارے میں فیصلہ دیا جاتا ہے اور جس کے مسئلہ کا علم نہیں ہوتا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء کی موجودگی میں ، ہم اس طرح کے معاملات میں موجود رہے ہیں ، تو ان میں سے جو باتیں ہم نے محفوظ رکھنا چاہیں ، وہ محفوظ رکھ لیں ، اور اب اس کے بعد وراثت کے بارے میں جو شخص ہم سے حکم دریافت کرتا ہے ، ہم اس کے مطابق فتوی دے دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” وجادہ “ کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔