مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ وَصِيَّةُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وصیت
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَنَا أَوَّلُ مَنْ أَتَى عُمَرَ حِينَ طُعِنَ فَقَالَ : احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا يُدْرِكَنِي النَّاسُ . أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَقَضِ فِي الْكَلَالَةِ قَضَاءً ، وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ عَلَى النَّاسِ خَلِيفَةً ، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لِي عَتِيقٌ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو میں سب سے پہلے ان کے پاس آیا انہوں نے فرمایا : میری تین باتیں یاد رکھنا ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اب لوگ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے ، میں نے کلالہ کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے اور میں نے لوگوں پر کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا ہے اور میرا ہر غلام آزاد شمار ہو گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ( عربی متن میں اسی طرح مذکور ہے شاید اصل عبارت یہ ہونی چاہیے : یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ) ۔