مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ وَصِيَّةُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وصیت
عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ مُسْتَنِدًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعِنْدَهُ ابْنُ عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ : اعْلَمُوا أَنِّي لَمْ أَقُلْ فِي الْكَلَالَةِ شَيْئًا ، وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِي أَحْدًا ، وَأَنَّهُ مَنْ أَدْرَكَ وَفَاتِي مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ : أَمَّا إِنَّكَ لَوْ أَشَرْتَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَائْتَمَنَكَ النَّاسُ . وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَائْتَمَنَهُ النَّاسُ فَقَالَ عُمَرُ : قَدْ رَأَيْتُ مِنْ أَصْحَابِي حِرْصًا سَيِّئًا ، وَإِنِّي جَاعِلٌ هَذَا الْأَمْرَ إِلَى هَؤُلَاءِ النَّفَرِ السِّتَّةِ الَّذِينَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْ أَدْرَكَنِي أَحَدُ رَجُلَيْنِ ، ثُمَّ جَعَلْتُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَيْهِ لَوَثِقْتُ بِهِ . سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤ابورافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ، ان کے پاس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ موجود تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ یہ بات جان لو ! کہ میں نے کلالہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا: ہے ، اور میں اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کر رہا ہوں ، عربوں کے قیدیوں میں سے جس کو میرے وفات کا وقت نصیب ہو جائے ، وہ اللہ کے مال میں سے آزاد شمار ہو گا ، سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ مسلمانوں میں سے کسی شخص کی طرف اشارہ کر دیں تو لوگ اس حوالے سے آپ کو امین سمجھیں گے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا کیا تھا ، لوگوں نے انہیں بھی امین سمجھا تھا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنے اصحاب کی طرف سے ناپسندیدہ خواہش دیکھی ہے ، میں اس معاملے کو ان چھ افراد کے سپرد کر رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وصال کے وقت ان حضرات سے راضی تھے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر دو افراد میں سے کوئی ایک اس وقت موجود ہوتا ، تو میں اُسے امیر مقرر کر دیتا اور اس پر یقین رکھتا ، ابوحذیفہ کا غلام سالم اور ابوعبیدہ بن جراح ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ۔