مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ الْوَصِيَّةُ بِالثُّلُثِ . باب: ایک تہائی مال کے بارے میں وصیت کرنا
وَعَنْ عَمْرِو ( بْنِ ) الْقَارِئِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمَ فَخَلَّفَ سَعْدًا مَرِيضًا حَيْثُ خَرَجَ إِلَى حُنَيْنٍ، فَلَمَّا قَدَّمَ مِنْ جِعْرَانَةَ مُعْتَمِرًا دَخَلَ عَلَيْهِ ، وَهُوَ وَجِعٌ مَغْلُوبٌ . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا ، وَإِنِّي أُورَثُ كَلَالَةً أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ أَوْ أَتَصَدَّقُ بِهِ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْهِ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : أَفَأُوصِي بِشَطْرِهِ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : أَفَأُوصِي بِثُلُثِهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَذَاكَ كَثِيرٌ " . قَالَ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَمُوتُ بِالْأَرْضِ الَّتِي خَرَجْتُ مِنْهَا مُهَاجِرًا . قَالَ : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَرْفَعَكَ اللَّهُ فَيَنْكَأَ بِكَ أَقْوَامًا، وَيَنْفَعَ بِكَ آخَرِينَ يَا عَمْرُو بْنَ الْقَارِئِ إِنْ مَاتَ سَعْدٌ بَعْدِي فَهَاهُنَا فَادْفِنْهُ " . نَحْوَ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَهُوَ بِمَكَّةَ بَعْدَ مَا انْطَلَقَ إِلَى حُنَيْنٍ وَرَجَعَ إِلَى الْجِعْرَانَةِ وَقَسَّمَ الْمَغَانِمَ ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عِيَاضُ بْنُ عَمْرٍو الْقَارِئُ ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ . ¤سیدنا عمرو بن قاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو بیمار چھوڑا تھا ، یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ حنین تشریف لے گئے تھے ، جب آپ جعرانہ سے عمرہ کرنے کے لئے تشریف لائے ، تو آپ ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے وہ انتہائی بیمار تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس مال بھی ہے اور میری آل اولاد نہیں ہے ، تو کیا میں اپنے پورے مال کے بارے میں وصیت کر دوں یا اسے صدقہ کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : کیا میں دو تہائی کے بارے میں وصیت کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : نصف کے بارے میں وصیت کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : ایک تہائی کے بارے میں وصیت کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن یہ بھی زیادہ ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ کیا میں اس سرزمین پر مر جاؤں گا ؟ جہاں سے میں ہجرت کر کے نکلا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں سر بلندی عطا کرے گا ( یعنی تمہیں اور بھی زندگی دے گا ) اور تمہارے ذریعے کچھ لوگوں کو رسوا کرے گا اور دوسرے لوگوں کو تمہارے ذریعے نفع دے گا ، اے عمرو بن قاری ! اگر میرے بعد سعد کا انتقال یہاں ہوتا ہے ، تو تم اسے ( یہاں ) دفن کرنا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے راستے کی طرف اپنے دست مبارک کے ذریعے اس طرح اشارہ کر کے فرمایا کہ یہاں دفن کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے وہ اس وقت مکہ میں تھے یہ آپ کے حنین چلے جانے اور جعرانہ سے واپس آنے اور مال غنیمت تقسیم کر دینے کے بعد کی بات ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا ، صفا و مروہ کی سعی کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیاض بن عمرو قاری ہے ، کسی نے اس پر جرح بھی نہیں کی ہے اور کسی نے اس کی توثیق بھی نہیں کی ہے ۔