مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الوصايا— وصیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ تَصَرَّفَ فِي مَرَضِهِ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنی بیماری کے دوران ایک تہائی سے زیادہ کا تصرف کرتا ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : أَعْتَقَ رَجُلٌ فِي وَصِيَّتِهِ سِتَّةَ أَرْؤُسٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَسْهَمَ فَأَخْرَجَ ثُلُثَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ تَوْبَةُ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَقَدْ ضُعِّفَ وَوُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اپنی وصیت میں اپنے چھ غلام آزاد کر دیے اس کے ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے غصے کا اظہار کیا ، پھر آپ نے قرعہ اندازی کروا کے ان میں سے دو تہائی کو نکلوا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی توبہ بن نمیر ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔