مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمِرَاءِ . باب: (مذہبی امور کے بارے میں غیر ضروری ) بحث کرنے کے بارے میں جو منقول ہے
حدیث نمبر: 708
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ ، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ مَازِحٌ ، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسُنَتْ سَرِيرَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اس شخص کے لئے جنت کے درمیان میں گھر کا ضامن ہوں ، جو حق پر ہونے کے باوجود بحث کو ترک کر دیتا ہے ، اور جنت کے درمیان میں ایک گھر کا ضامن ہوں ، جو جھوٹ کو ترک کر دیتا ہے ، خواہ وہ مزاح کے طور پر ہی ہو ، اور جنت کے بالائی حصے میں گھر کا ضامن ہوں ، اُس شخص کے لئے جو اپنے اخلاق اچھے کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔