مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمِرَاءِ . باب: (مذہبی امور کے بارے میں غیر ضروری ) بحث کرنے کے بارے میں جو منقول ہے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ بَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَتَذَاكَرُ ، يَنْزِعُ هَذَا بِآيَةٍ ، وَيَنْزِعُ هَذَا بِآيَةٍ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّمَا يُفْقَأُ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ ، فَقَالَ : " يَا هَؤُلَاءِ ، بِهَذَا بُعِثْتُمْ أَمْ بِهَذَا أُمِرْتُمْ ؟ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے بحث کر رہے تھے ، ایک شخص ایک آیت دلیل کے طور پر پیش کرتا تھا ، دوسرا شخص دوسری آیت دلیل کے طور پر پیش کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس باہر تشریف لائے ، تو یوں محسوس ہو رہا تھا ، جیسے آپ کے چہرے پر انار کا رس انڈیل دیا گیا ہو ( یعنی غصے کی شدت کی وجہ سے آپ کا چہرہ مبارک انتہائی سرخ ہو رہا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہیں اس بات کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے ؟ یا تمہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے ؟ تم میرے بعد دوبارہ کافر نہ ہو جانا ! کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے پھرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔