مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأحكام— احکام کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الشُّهُودِ . باب: گواہوں کا بیان
حدیث نمبر: 7036
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الطَّيْرَ لَتَضْرِبُ بِمَنَاقِيرِهَا عَلَى الْأَرْضِ وَتُحَرِّكُ أَذْنَابَهَا مِنْ هَوْلِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَا يَتَكَلَّمُ شَاهِدُ الزُّورِ وَلَا يُفَارِقُ قَدَمَاهُ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى يُقْذَفَ بِهِ فِي النَّارِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَا أَعْرِفُهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے ایک پرندہ اپنی چونچ زمین پر مارتا ہے اور اپنی دم کو حرکت دیتا ہے ، لیکن جب کوئی گواہی دینے والا کلام کرتا ہے ، تو اُس کے پاؤں اپنی جگہ سے ہلنے سے پہلے اُسے جہنم میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔