حدیث نمبر: 7030
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ : فِي كِيسِي هَذَا حَدِيثٌ لَوْ حَدَّثْتُكُمُوهُ لَرَجَمْتُمُونِي . ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا أَبْلُغَنَّ رَأْسَ السِّتِّينَ . قَالُوا : وَمَا رَأْسُ السِّتِّينَ ؟ قَالَ : إِمَارَةُ الصِّبْيَانِ ، وَبَيْعُ الْحُكْمِ ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ ، وَالشَّهَادَةُ بِالْمَعْرِفَةِ ، وَيَتَّخِذُونَ الْأَمَانَةَ غَنِيمَةً وَالصَّدَقَةَ مَغْرَمًا ، وَنَشُوءٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ . قَالَ حَمَّادٌ : وَأَظُنُّهُ قَالَ : وَالتَّهَاوُنُ بِالدَّمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّلَّالُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میرے ذہن میں ایک حدیث ہے : اگر میں اُسے تم لوگوں کو بیان کر دوں ، تو تم لوگ مجھے پتھر مارو گے ، پھر انہوں نے کہا: اے اللہ ! میں ساٹھ ہجری تک نہ پہنچوں ، لوگوں نے کہا: ساٹھ ہجری کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : بچوں کی حکومت آ جائے گی ، فیصلے فروخت ہوں گے ، شرطیں زیادہ عائد کی جائیں گی ، جان پہچان کی بنیاد پر گواہی دی جائے گی امانت کو غنیمت بنا لیا جائے گا ، صدقہ کو جرمانہ سمجھا جائے گا ، اور ایسے لوگ آئیں گے ، جو قرآن کو مزامیر بنا لیں گے ۔ حماد کہتے ہیں : میرا خیال ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا: تھا : کہ خون کو ہلکا سمجھا جائے گا
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن محمد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7030
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1419)»