مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأحكام— احکام کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الرِّشَا . باب: رشوت کا بیان
وَعَنْ عُلَيْمٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عَلَى سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عُلَيْمٌ : لَا أَعْلَمُ إِلَّا عَبْسًا الْغِفَارِيَّ - وَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ فِي الطَّاعُونِ . قَالَ عَبْسٌ : يَا طَاعُونُ خُذْنِي ، ثَلَاثًا يَقُولُهَا . فَقَالَ لَهُ عُلَيْمٌ : لِمَ تَقُلْ هَذَا ؟ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ، فَإِنَّهُ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِهِ ، وَلَا يُرَدُّ فَيُسْتَعْتَبَ " ؟ . فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " بَادِرُوا بِالْمَوْتِ سِتًّا : إِمْرَةَ السُّفَهَاءِ [ وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ ] وَبَيْعَ الْحُكْمِ وَاسْتِخْفَافًا بِالدَّمِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ وَنَشُوءًا يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَهُ يُغَنِّيهِمْ ، وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْهُمْ فِقْهًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَابِسٌ الْغِفَارِيُّ وَقَالَ : " يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ لَيْسَ بِأَفْقَهِهِمْ ، وَلَا أَعْلَمِهِمْ ، وَلَا بِأَفْضَلِهِمْ يُغَنِّيهِمْ غِنَاءً " . ¤ وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤علیم بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک سطح پر بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ ایک صحابی موجود تھے ، علیم کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق وہ سیدنا عبس غفاری رضی اللہ عنہ تھے ، لوگ طاعون میں نکل رہے تھے ، سیدنا عبس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے طاعون ! تو مجھے گرفت میں لے انہوں نے تین مرتبہ یہ کلمات کہے ، تو علیم نے ان سے کہا: آپ نے یہ بات کیوں کہی ہے ؟ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات نہیں ارشاد فرمائی ہے : ” تم میں سے کوئی ایک شخص موت کی آرزو نہ کرے ، کیونکہ اس صورت میں اس کا عمل منقطع ہو جائے گا ، اور اسے دوبارہ بھی نہیں بھیجا جائے گا کہ وہ نئے سرے سے عمل کرے “ ۔ تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” چھ چیزوں سے پہلے موت کی طرف جلدی کرو ! بے وقوفوں کی حکومت ، شرطیں زیادہ لگایا جانا ، فیصلے کو فروخت کرنا ، خون کو کم تر سمجھنا ، رشتے داری کے حقوق پامال کرنا ، اور ایسے لوگوں کا سامنے آنا ، جو قرآن کو گانے کا ذریعہ بنا لیں گے ، وہ اپنے آگے ایسے شخص کو کریں گے ، جو ان کو گا کر سنائے گا ، اگرچہ وہ دین کے علم کے حوالے سے اُن میں سب سے کم تر ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” وہ ایسے شخص کو آگے کریں گے ، جو ان میں سب سے بڑا فقیہ نہیں ہو گا اور سب سے بڑا عالم نہیں ہو گا اور سب سے زیادہ فضیلت والا نہیں ہو گا ، بلکہ وہ ہو گا ، جو انہیں گا کر سنائے گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔