حدیث نمبر: 7013
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ أَقْطَعَ الدُّورَ ، وَأَقْطَعَ ابْنَ مَسْعُودٍ فِيمَنْ أَقْطَعَ ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَكِّبْهُ عَنَّا . قَالَ : " فَلِمَ بَعَثَنِي اللَّهُ إِذًا ؟ إِنَّ اللَّهَ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يُعْطُونَ الضَّعِيفَ مِنْهُمْ حَقَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو آپ نے مختلف گھر عطیہ کے طور پر دیے ، جن لوگوں کو آپ نے عطیہ کے طور پر دیے تھے ، ان میں آپ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بھی دیا ، آپ کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں ہم سے ہٹا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے کیوں بھیجا ہے ؟ بے شک اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاک نہیں کرتا ، جو لوگ اپنے میں سے ضعیف شخص کو اس کا حق نہیں دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7013
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10534)»