حدیث نمبر: 7011
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُقَدِّسُ اللَّهُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهَا مِنْ شَدِيدِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَقَالَ فِي رِوَايَةٍ : ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَلَا يُتْرَكُ . وَقَدْ تَرَكَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاک نہیں کرتا ، جس میں کمزور شخص کے لئے ، طاقتور سے حق نہیں لیا جاتا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے اور وہ ضعیف ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق انہوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ ضعیف ہے اور اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اسے متروک قرار نہیں دیا جائے گا ، حالانکہ ان کے علاوہ دیگر لوگوں نے اسے متروک قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے اور وہ ضعیف ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق انہوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ ضعیف ہے اور اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اسے متروک قرار نہیں دیا جائے گا ، حالانکہ ان کے علاوہ دیگر لوگوں نے اسے متروک قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 7012
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ لَا يُعْطَى الضَّعِيفُ فِيهَا حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ بِنَحْوِ هَذَا فِي الْخِلَافَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایسی امت کو پاک نہیں کیا جاتا جس ، میں کمزور کو اس کا حق رکاوٹ ( یا دقت ) کے بغیر نہیں دیا جاتا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث خلافت سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث خلافت سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 7013
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ أَقْطَعَ الدُّورَ ، وَأَقْطَعَ ابْنَ مَسْعُودٍ فِيمَنْ أَقْطَعَ ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَكِّبْهُ عَنَّا . قَالَ : " فَلِمَ بَعَثَنِي اللَّهُ إِذًا ؟ إِنَّ اللَّهَ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يُعْطُونَ الضَّعِيفَ مِنْهُمْ حَقَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو آپ نے مختلف گھر عطیہ کے طور پر دیے ، جن لوگوں کو آپ نے عطیہ کے طور پر دیے تھے ، ان میں آپ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بھی دیا ، آپ کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں ہم سے ہٹا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے کیوں بھیجا ہے ؟ بے شک اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاک نہیں کرتا ، جو لوگ اپنے میں سے ضعیف شخص کو اس کا حق نہیں دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7014
وَعَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ لَا يُؤْخَذُ فِيهَا لِلضَّعِيفِ حَقُّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي حُسْنِ قَضَاءِ الدَّيْنِ فِي الْبَيْعِ . ¤
محمد محی الدین
قابوس بن مخارق ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کی جاتی ، جس میں کمزور شخص کا حق ، کسی رکاوٹ ( یا دقت ) کے بغیر وصول نہیں کیا جا سکتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اچھے طریقے سے قرض ادا کرنے سے متعلق احادیث ، خرید و فروخت سے متعلق باب میں پہلے گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اچھے طریقے سے قرض ادا کرنے سے متعلق احادیث ، خرید و فروخت سے متعلق باب میں پہلے گزر چکی ہیں ۔