حدیث نمبر: 7004
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ خَصْمَانِ يَخْتَصِمَانِ ، فَقَالَ لِي : " اقْضِ بَيْنَهُمَا " . فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي ، أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنِّي ! فَقَالَ : " اقْضِ بَيْنَهُمَا " . فَقُلْتُ : عَلَى مَاذَا ؟ قَالَ : " اجْتَهِدْ ، فَإِنْ أَصَبْتَ فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَإِنْ لَمْ تُصِبْ فَلَكَ حَسَنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ قَبْلَ هَذَا أَنَّ أَحْمَدَ رَوَاهُ بِإِسْنَادٍ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ کے سامنے دو مقابل فریق موجود تھے ، جو مقدمہ لے کے آئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم ان دونوں کے درمیان فیصلہ دو ، میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ اس چیز کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان کے درمیان فیصلہ کرو ، میں نے عرض کی : کس بنیاد پر ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اجتہاد کرو ! اگر تم نے درست فیصلہ دیا ، تو تمہیں دس نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے درست فیصلہ نہ دیا ، تو تمہیں ایک نیکی ملے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان اسدی ہے اور وہ متروک ہے ، اس سے پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ امام أحمد نے اسے ایسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7004
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (131) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1606)»