حدیث نمبر: 7002
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَصْمَانِ [ يَخْتَصِمَانِ ] قَالَ لِعَمْرٍو : " اقْضِ بَيْنَهُمَا [ يَا عَمْرُو ] " . قَالَ : أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَإِنْ كَانَ " . قَالَ : فَإِذَا قَضَيْتُ بَيْنَهُمَا فَمَا لِي ؟ قَالَ : " إِنْ أَنْتَ قَضَيْتَ بَيْنَهُمَا فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَإِنْ أَنْتَ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ حَسَنَةٌ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : " إِنْ أَصَبْتَ فَلَكَ أَجْرَانِ ، وَإِنْ أَخْطَأْتَ فَلَكَ أَجْرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو افراد آئے ، جو ایک دوسرے کے مقابل فریق تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے عمرو ! تم ان دونوں کے درمیان فیصلہ دو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھ سے زیادہ اس بات کے حق دار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ ایسا ہی ہے ( لیکن تم ہی فیصلہ دو ) انہوں نے عرض کی : اگر میں ان دونوں کے درمیان فیصلہ دے دوں گا ، تو مجھے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم ان دونوں کے درمیان فیصلہ دو گے اور درست فیصلہ دو گے ، تو تمہیں دس نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے اجتہاد سے کام لیا اور تم نے غلطی کی ، تو تمہیں ایک نیکی ملے گی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں
یہ روایت منقول ہے : ” اگر تم نے درست فیصلہ دیا ، تو تمہیں دگنا اجر ملے گا اور اگر تم نے غلطی کی ، تو تمہیں ایک اجر ملے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7002
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (205/4)»