مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأحكام— احکام کے بارے میں روایات
بَابُ اجْتِهَادِ الْحَاكِمِ . باب: حاکم ( یعنی قاضی ) کا اجتہاد کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ خَصْمَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَضَى بَيْنَهُمَا فَسَخِطَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذْ قَضَى الْقَاضِي فَاجْتَهَدَ وَأَصَابَ فَلَهُ عَشَرَةُ أُجُورٍ ، وَإِذَا اجْتَهَدَ وَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ أَوْ أَجْرَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ أُكْسُومٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ بِعِلْمٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : دو افراد نے اپنا مقدمہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا ، انہوں نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ دے دیا ، جس شخص کے خلاف فیصلہ ہوا تھا ، وہ ناراض ہو گیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” جب قاضی فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد سے کام لے اور درست فیصلہ دے ، تو اسے دس گنا اجر ملتا ہے اور جب وہ اجتہاد کرتے ہوئے غلطی کرے ، تو اسے ایک ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : یا ) دو اجر ملتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن اکسوم ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔