مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابُ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ . باب: معصیت کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے نذر اس چیز کے حوالے سے ہوتی ہے ، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا ارادہ کیا گیا ہو
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ذُودًا لِي عَلَى صَنَمٍ مِنْ أَصْنَامِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ ، وَلَا تَأْثَمْ بِرَبِّكَ " ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ ، وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ فِي اللُّقَطَةِ ، وَفِيهِ أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں زمانہ جاہلیت کے ایک بت کے پاس اپنے اونٹ کو ذبح کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی نذر کو پورا کر دو لیکن اپنے پروردگار کی نافرمانی نہ کرو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : معصیت کے بارے میں قطع رحمی کے بارے میں اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو ، ( اس کے بارے میں ) نذر کا پورا کرنا لازم نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے مکمل روایت لقطہ سے متعلق باب میں گزر چکی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔