مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا . باب: اس شخص کا بیان ، جو کوئی قسم اٹھاتا ہے پھر ( قسم کے برخلاف کرنا ) اس سے زیادہ بہتر سمجھتا ہے
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا حَلَفَتْ فِي غُلَامٍ لَهَا اسْتَعْتَقَهَا قَالَتْ : لَا أَعْتَقَهَا اللَّهُ مِنَ النَّارِ إِنْ أَعْتَقَتْهُ أَبَدًا . ثُمَّ مَكَثَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَتْ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ يَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " . فَأَعْتَقَتِ الْعَبْدَ ، ثُمَّ كَفَّرَتْ عَنْ يَمِينِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَسَنٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے اپنے ایک غلام کے بارے میں حلف اٹھا لیا ، جس نے ان سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ اسے آزاد کر دیں ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ حلف اٹھا لیا کہ اگر میں نے اسے آزاد کیا ، تو اللہ تعالیٰ مجھے جہنم سے آزاد نہ کرے ، تو جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، اتنا عرصہ گزر گیا ، پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سبحان اللہ ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر اس سے زیادہ بہتر صورت حال دیکھے ، تو وہ اپنی قسم کا کفارہ دیدے اور وہ کام کر لے ، جو زیادہ بہتر ہے “ ۔ پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس غلام کو آزاد کر دیا اور اپنی قسم کا کفارہ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ عبداللہ بن حسن نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ۔