مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا . باب: اس شخص کا بیان ، جو کوئی قسم اٹھاتا ہے پھر ( قسم کے برخلاف کرنا ) اس سے زیادہ بہتر سمجھتا ہے
حدیث نمبر: 6943
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُذَيْنَةَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
عبدالرحمن بن اذینہ ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کوئی قسم اٹھائے ، پھر اس کے علاوہ کام کو ، اس سے زیادہ بہتر سمجھے تو وہ کام کرے ، جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دیدے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عبداللہ بن اذینہ نامی راوی ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( شروع میں راوی کا نام عبدالرحمن بن اذینہ ذکر ہوا ہے ، شاید کاتب کی غلطی ہے ، یا پھر راوی کوئی اور ہو گا ) ۔