حدیث نمبر: 6941
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِبِلًا فَفَرَّقَهَا ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَجِدْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ : " لَا " . فَقَالَ لَهُ ثَلَاثًا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ " . وَبَقِيَ أَرْبَعٌ غُرُّ الذَّرَى ، فَقَالَ : " خُذْهُنَّ يَا أَبَا مُوسَى " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي اسْتَجْدَيْتُكَ فَمَنَعْتَنِي وَحَلَفْتَ ، فَأَشْفَقْتُ أَنْ يَكُونَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهْمٌ فَقَالَ : " إِنِّي إِذَا حَلَفْتُ فَرَأَيْتُ غَيْرَ ذَلِكَ أَفْضَلَ كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال فئے کے طور پر اونٹ دیے تو آپ نے انہیں تقسیم کیا ، سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بھی عطا کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے تین مرتبہ آپ کی خدمت میں گزارش کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا ، پھر چار عمدہ قسم کے اونٹ آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوموسیٰ ! تم انہیں لے لو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پہلے میں نے آپ سے سواری کے لئے مانگے تھے تو آپ نے مجھے منع کر دیا تھا اور حلف اٹھا لیا تھا ، اب مجھے یہ اندیشہ ہے کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جب حلف اٹھاؤں اور پھر اس کے علاوہ کام کو زیادہ فضیلت والا دیکھوں ، تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا اور وہ کام کروں گا ، جو زیادہ فضیلت والا ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6941
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح