مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا . باب: اس شخص کا بیان ، جو کوئی قسم اٹھاتا ہے پھر ( قسم کے برخلاف کرنا ) اس سے زیادہ بہتر سمجھتا ہے
حدیث نمبر: 6936
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا فَلْيَأْتِهَا ، فَإِنَّهَا كَفَّارَتُهَا إِلَّا طَلَاقًا أَوْ عَتَاقًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ رَمَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ بِالْكَذِبِ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : صُوَيْلِحٌ يُعْتَبَرُ بِهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کوئی قسم اٹھائے ، پھر اس کے علاوہ کوئی کام کو ( اس سے زیادہ بہتر دیکھے ) تو وہ کام کر لے ، کیونکہ اس کا کفارہ یہی ہو گا ، البتہ طلاق دینے ، یا غلام آزاد کرنے کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عمرو بن مالک نکری ہے ، جس پر حماد بن زید نے جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ کم درجہ کا صالح ہے اور اس کا اعتبار کیا جائے گا ۔