مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابُ إِبْرَارِ الْقَسَمِ . باب: قسم پوری کروانا
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَمَعَهُ غُنَيْمَاتٌ لَهُ ، فَقَالَ : بِكَمْ تَبِيعْ غَنَمَكَ هَذِهِ ؟ بِكَذَا وَكَذَا فَحَلَفَ أَنْ لَا يَبِيعَهَا ، فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَمَرَّ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ خُذْهَا بِالَّذِي أَعْطَيْتَنِي قَالَ : حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَلَمْ أَكُنْ لِأُعِينَ الشَّيْطَانَ عَلَيْكَ ، وَأَنْ أُحْنِثَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ، جس کے ساتھ کچھ بکریاں تھیں ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم اپنی یہ بکریاں کتنے کے عوض میں فروخت کرو گے ؟ کیا اتنے اتنے کے عوض میں فروخت کر دو گے ؟ اس نے یہ حلف اٹھا لیا کہ وہ انہیں فروخت نہیں کرے گا ، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آگے چلے گئے ۔ انہوں نے اپنا کام مکمل کیا ، جب وہ دوبارہ اس شخص کے پاس سے گزرے ، تو اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! آپ جو رقم مجھے دے رہے تھے اس کے عوض میں یہ حاصل کر لیں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ فرمایا : کہ تم نے تو قسم اٹھائی تھی ، اب میں تمہارے خلاف شیطان کی مدد نہیں کروں گا کہ تمہیں حانث کروا دوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔